وَاللَّهُ يَعلَمُ ما تَصنَعونَ
فہرست مطالب
قرآن اور حديث
امام علی رضا کے فرامین
سيرت معصومين عليهم السلام
ھماری فعالیت،تصاویر
حضرت امام رضا (ع)
اسٹوڈنٹس سے مخصوص احكام
محرم الحرام
اسلامي عقيدا
اصول دين
رمضان الکریم
تاريخ اسلام
فروع دين
علماء کی سيرت
انقلاب اسلامی
منزل بہ منزل کربلا
ماہ رمضان
دعا اور زيارت
علمي مقالا
زندگي کے آداب
فلسفه و کلام
اردو مقالات
فارسي مقالات
اردو دروسِ حوزوی
بیداری اسلامی
تصاویر
موبائل کے بہترین اسلامی سافٹ
ہمارے بارے میں ـ ہم سے رابطہ
ڈانلوڈ اردو کتابیں
14 معصومین کی حدیثیں
لنکس ( دیگر سائٹس )
جاننے والے
ڈزائنز
تصویری رپورٹ
لنکس
عشرۂ فجر
مختار ثقفی کون تھے؟
تقليد ڇا آهي ؟
حضرت علي (ع) جون آخري وصيتون
مومن ناڪام ڇو؟
تمام لنکس
مزید مطالب
آٹھویں امام علي رضا علیہ السلام کی چالیس حدیثیں
لکہاگیا بتوسط محمد حسن لاشاری

 بسم اللہ  الرحمن الرحیم


عرض ادب

زیارت جامعہ کبیرہ میں حضرت امام علی الہادی النقی علیہ السلام نے معارف کے وہ سمندر سمیٹے ہیں جو رہتی دنیا تک تشنگان معارف کو سیراب کرتے رہیں گے۔اسی پُر نور زیارت میں زائر شخص معصوم علیہ السلام کے حضور نہایت ادب و ارادت سے یہ عرض کرتا ہے ‘‘ کلامکم نور’’ یعنی اے حجتِ خدا آپ کی کلام نور خدا ہے۔تمام معصومین علیہم السلام کے فرامین و ارشادات نور ہی نور ہیں کیونکہ کلام الامام امام الکلام یعنی امام علیہ السلام کی کلام دیگر تمام کلاموں کی  امام ہے۔جو برتری و فضیلت خود امام علیہ السلام کو مخلوقات پر ہے وہی برتری و فضیلت دوسروں کی کلام پر ہر امام علیہ السلام کی کلام کو حاصل ہے اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ خداوند حکیم کی حکمتِ کاملہ کے مکمل ترین مظاہر یہی چہاردہ معصومین علیہم السلام ہی ہیں۔اگر ایک عاقل،حق جُو اور حقیقت کی طلب اور تڑپ رکھنے والا با انصاف شخص ان حکیم ہستیوں کے کلام کو سامنے رکھے،معانی کو دیکھے،مفاہیم کی گہرائیوں میں غوطہ ور ہو جائے تو زندگیوں کو سنوار دینے والے اور منزل سعادت تک لے جانے والے نایاب گوہر اور انمول دُر پالیتا ہے۔

 چالیس کا عدد علم اعداد میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے جس کے مخصوص فضائل و آثار نقل ہوئے ہیں،احادیث کے علاوہ خود قرآن کریم میں بھی یہ عدد ذکر ہوا ہے۔ان دونوں امور کو سامنے رکھتے ہوئے مختصر سی کاوش کی گئی ہے کہ عالمِ آل محمد علیہ السلام کی زبان مبارک سے چالیس نورانی احادیث ذکر کرنے کا شرف حاصل کیا جائے۔آئیے اس حجت خدا،راہ ہدیٰ حضرت امام رضا علیہ السلام کی مقدس نورانی احادیث کی برکات سے اپنی زندگیوں کو نورانی کرنے کیلیے خالصانہ کوشش کریں۔

ہر حدیث رضوی کا عربی متن،اردو ترجمہ اور نہایت اختصار سے تبرکاً چودہ احادیت کی تشریح قابل ملاحظہ ہےاس ناقابل کاوش کو حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غریب الوطن پارۂ جگر،غریب الغربا حضرت امام رضا علیہما آلاف التحیۃ والثنا کی لسانِ مبارک سے بیان ہونے والی چالس مقدس احادیث کو اپنے وطن میں غریب ہو جانے والی بضعۃ الرسول حضرت فاطمۃ الزہراء البتول کی خوشنودی  کی نذر کرتے ہیں۔

(تذکر:اختصار کی رعایت کے پیشِ نظر احادیث رضویہ کی تفصیلی اسناد ذکر نہیں کی گئیں،محققین حضرات دیے گئے حوالہ جات کے مطابق منابع کی طرف رجوع فرما سکتے ہیں)۔



آٹھویں امام علیہ السلام کی چالیس حدیثیں

۱۔قال علی ابن موسی الرضا علیہ آلاف التحیۃ والثاء:صَدِیقُ کُلّ امرء عَقلہُ و عَدُوُّہُ جَھلُہُ(۱)

ترجمہ: ہر شخص کا دوست اس کی عقل اور دشمن اُس کا جہل ہے۔

مختصر تشریح: اچھا،پائیدار اور سچا دوست قابل اعتماد ہوتا ہے پس جب ہر شخص کو عقل کی صورت میں ایسا دوست حاصل ہے تو اس پر بھر پور اعتماد کرکے مشکلات سے نجات اور بلندیوں کی طرف پرواز بہت آسان ہے جبکہ جہالت و نادانی بہت بُرا  دشمن ہے لہٰذا علم و معرفت کے کسب و حصول سے اس دشمن سے جان چھڑا لینی چاہیے،قرآن کریم میں بھی عقل،تعقل،تفکر اور تدبر کا ممدوح طور پر ذکر ہوا ہےاور عقل سے کام نہ لینے کی مذمت ہوئی ہے۔

عقل ہو تو زندگی آسان ہے

صید ناکامی مگر نادان ہے

۲۔التودد الی الناس نصف العقل

ترجمہ: لوگوں کے ساتھ محبت کا سلوک و برتاؤ نصف عقل ہے۔

مختصر تشریح:انسان کا کردار اس کے گفتار و رفتار سے تشکیل پاتا ہے،حضرت امام ہشتم علیہ السلام تمام لوگوں سے ایسے پیش آتے تھے کہ سب لوگ اُن سے راضی تھے لہٰذا ان کا لقب مبارک رضا تھا،تمام لوگوں کے لیے ان کا پیغام یہی ہے کہ دوسروں کے ساتھ محبت بھرا برتاؤ رکھیں کیونکہ انسان کا کردار،برتاؤ اور سلوک اس میں موجود عقل و معرفت کا مظہر ہوتا ہے،حُسنِ سلوک کا مالک شخص سب کے نزدیک عقلمند ہوتا ہے اور دنیوی و اخروی منافع اس کی قسمت بن جاتے ہیں۔

۳۔اذا ذکرت الرجل و ھو حاضر فکنہ واذا کان غائبا فسمہ

ترجمہ: جب آپ کسی حاضر شخص کے بارے میں گفتگو کریں تو (اس کا نام لینے کی بجائے)اس کی کنیت ذکر کریں اور اگر غائب شخص کے بارے میں بات کررہے ہوں تو اس کا نام لیں۔

مختصر تشریح:عربوں میں ایک اچھا رسم و رواج یہ بھی ہے کہ ہر شخص کیلئے نام کے علاوہ کنیت کا ہونا بھی لازمی امر ہے۔اس سے جہاں ایک شخصیت ظاہر ہوتی ہے وہاں بہترین احترام کی فضا بھی بنتی ہے۔امام علیہ السلام ایک عمدہ نکتے کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں کہ جس کے بارے میں بات کررہے ہیں اگر وہ وہیں موجود ہے تو اس کی کنیت سے اس کا احترام ظاہر کرو اور اگر وہ وہاں پر نہیں ہے تو اس صورت میں اس کا نام لے سکتے ہیں۔

۴۔ ان اللہ یبغض القیل والقال واضاعۃ المال و کثرۃ السؤال

ترجمہ:بے شک خداوند متعال قیل و قال،مال وثروت کے ضیاع اور زیادہ سوال کرنے سے ناراض ہوتا ہے۔

مختصر تشریح: بعض صفات ایسی ہیں جو خداوندمتعال کو ناپسند ہیں،عقل کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ایسی صفات سے بچے تاکہ خود خداوندمتعال کے ہاں ناپسند یدہ نہ ہو جائے ان میں سے تین اہم صفات یا عادات یہاں ذکر ہوئی ہیں۔

الف۔انسان کی زندگی محدود ہے لہٰذا اسے بہتر سے بہتر کاموں میں گذارنا چاہیے فضول گفتگو اور لا یعنی ابحاث سے زندگی کا قیمتی خزانہ ضائع ہوتا رہتا ہے لہٰذا خداوندمتعال کے ہاں ناپسندیدہ ہے۔

ب۔مال و دولت بھی دیگر نعمات کی طرح خداوند متعال کی جانب سے انسانوں کے ہاتھ میں امانت ہے اور اس کو بغیر سوچے سمجھے ضائع کردینا اس امانت میں خیانت کا باعث بنتا ہے لہٰذا ناپسندیدہ امر ہے۔

ج۔زیادہ مانگنے اور سوال کرنے سے انسان کا دوسرے انسانوں کی نظروں میں وقار واحترام جاتا رہتا ہے لہٰذا انسان اگر آبرومند اور محترم رہنا چاہے تو اپنے جیسوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے۔

۵۔لم یخنک الأمین ولکن ائتمنت الخائن۔

ترجمہ: امین شخص آپ کے ساتھ خیانت نہیں کرتا لیکن(بعض اوقات غلط تشخیص سے)آپ خائن شخص کو امین سمجھ کر دھوکہ کھالیتے ہیں۔

مختصر تشریح: امانت خداوندمتعال کی پسندیدہ صفت ہے اور خداوند امین پسندفرماتا ہے کہ اُس کے بندے بھی اُس کی صفات کو اپنائیں۔جو شخص ایک دفعہ امانت کے ملکہ سے اپنے دل کو مزیّن کرلیتا ہے،وہ پھر کسی معاملہ میں بھی خیانت کی طرف نہیں جاتا لہٰذا اگر انسان دھوکہ کھاتا ہے تو اپنی تشخیص کے نادرست ہونے سے دھوکہ کھا لیتا ہے پس وہ امین کو خائن نہیں کہے بلکہ سمجھ لے کہ خائن کو امین سمجھ بیٹھا ہے۔

۶۔صاحب النعمۃ یجب ان یوسع علی عیالہ

ترجمہ: نعمت پانے والے شخص پر واجب ہے کہ اپنے اہل و عیال کی رفاہ حال کا انتظام کرے۔

مختصر تشریح: خداوندمتعال جب اپنے بندوں کو کچھ نعمات عطا فرماتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کے بندے ان نعمتوں سے صحیح فائدہ اُٹھائیں تاکہ نعمت بخش ہستی کا شکریہ ادا ہوسکے۔ہر شخص سے زیادہ توقعات اس کے متعلقین کو ہوتی ہیں اور اس طرف سے امام علیہ السلام فرمارہے ہیں کہ نعمت ملے تو اپنے گھر کے افراد کو توسیع دو تاکہ انہیں احساس ہو کہ  تنگدستی کے حالات سے باہر آنکلے ہیں اور پھر سب مل کر خدا کے شکر گذار بندے بن سکیں۔

۷۔من اخلاق الانبیاء‘‘التنظّف’’

ترجمہ: ‘‘صفائی و پاکیزگی’’انبیاء کے اخلاق سے ہے۔

مختصر تشریح: انبیاء علیہم السلام مخلوق خدا کے پیشوا ورہنما ہیں پس ان کی عادات واخلاق کاایسے امور پر مشتمل ہونا ضروری ہے جو خداوندمتعال کے ہاں پسندیدہ ہیں  انھیں امور میں سے ایک خاص امر‘‘صفائی و پاکیزگی’’ ہے۔ہمیں بھی اپنے ظاہر و باطن کو پاک و پاکیزہ  رکھنا چاہیے،لباس،بدن،دل سب پاکیزہ ہونے کی صورت میں پسندیدہ ہیں۔       

۸۔ لیست العبادۃ کثرۃ الصیام والصلاۃ وانّما العبادۃ کثرۃ التفکر فی امراللہ۔

ترجمہ: عبادت روزہ و نماز کی کثرت ہی نہیں ہے بلکہ حقیقت میں عبادت امرخداوند میں زیادہ فکر کرنا ہے۔

مختصر تشریح: سادہ لوح مسلمان کے نزدیک زیادہ روزے رکھنا اور زیادہ نمازیں پڑھنا،یہ ہی خداوند کی عبادت کا معیار ہے جبکہ حقیقت میں عبادت کا معیار انسان کی معرفت پر ہے اور معرفت خدازیادہ تفکر و تدبر سے حاصل ہوتی ہے۔جس انسان کی جس قدر معرفت زیادہ ہوگی اسی قدر اس کی عبادت کا معیار بلندتر ہوگا،خداوند کی نشانیوں میں زیادہ فکر کرنے سے انسان کو خداوند کا قرب نصیب ہوتا ہے اور پھر تمام عبادات میں اس کے آثار نمایاں رہتے ہیں اس لیے زیادہ تفکر و تدبر کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

۹۔الاخ الاکبر بمنزلۃ الأب

ترجمہ: بڑا بھائی باپ کی منزلت رکھتا ہے۔

مختصر تشریح: خداوندمتعال کے ہاں پسندیدہ دین اسلام ہے،اسلام کی تعلیمات سلامتی کا پیغام دیتی ہیں۔اسلامی اصولوں میں بڑا بھائی چھوٹے بھائیوں بہنوں کے لیے خاص احترام رکھتا ہے اور اس طرح سے چھوٹے بڑوں کا احترام کرتے ہیں تو بڑے بھی چھوٹوں پر شفقت کا ہاتھ رکھتے ہیں پس یوں ایک اسلامی اور پسندیدہ ماحول و فضا رکھنے والا چھوٹا سا معاشرہ (گھر) تشکیل پاتا ہے۔

۱۰۔ الصمت من ابواب الحکمۃ۔۔۔۔

ترجمہ: خاموشی(سکوت)حکمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔

مختصر تشریح: عاقل انسان حکمت کی تلاش میں رہتا ہے اور معصوم امام علیہ السلام رہنمائی فرما رہے ہیں کہ حکمت کے چند دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازہ خاموشی ہے۔اس فرمان ذیشان سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ انسان کو زیادہ بولنے اور باتونی بننے سے پرہیز کرنا چاہیے،ضرورت کی حد تک گفتگو ہونی چاہیے اور زیادہ وقت سکوت و خاموشی میں گزرنا چاہیے البتہ کیسی خاموشی؟ایک اور حدیث میں معصوم علیہ السلام نے وضاحت فرمائی ہے کہ عقلمند انسان کی خاموشی تفکر،تدبّر اور سوچ بچار کے ساتھ ہوتی ہے،اس طرح سے حکمت کا خزانہ انسان کو نصیب ہوسکتا ہےاور جس کو حکمت عطا ہو جائے اُسے خیرِ کثیر عطا ہو جاتی ہے۔

۱۱۔ ما من شیء من الفضول الا و ھو یحتاج الی الفضول من الکلام۔

ترجمہ: ہر فضول چیز فضول بات چیت کی ضرورتمند ہوتی ہے۔

مختصر تشریح: اچھا انسان اچھی چیزوں کے پیچھے ہوتا ہے لہٰذا فضولیات سے اجتناب کرتا ہے جبکہ فضول چیزوں کی تمنّا رکھنے والا شخص اپنی بے جا اور فضول خواہش کی وجہ سے زیادہ گوئی اور فضول گوئی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ زیادہ گوئی سے انسان کی آبرو نہیں رہتی اور شخصیت پر بُرااثرپڑتا ہے۔

۱۲۔ عونک للضعیف من افضل الصدقۃ

ترجمہ: آپ کا ضعیف کی مدد کرنا با فضیلت ترین صدقہ ہے۔

مختصر تشریح: قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ‘‘انسان ضعیف خلق کیا گیا ہے’’ جبکہ تمام تر قوت و قدرت خداوند کے ساتھ مخصوص ہے ‘‘لا حول ولا قوۃ الا باللہ’’انسان اگر غور کرے تو اس چند روزہ دنیا میں بعض اوقات اگر اسے کچھ دے دیا جاتا ہے تو فقط اس کی آزمائش کی جاتی ہے پس اگر وہ کسی کمزور ، ضعیف اور ناتوان شخص کی دستگیری کرتا ہے تو اس کا یہ کام با فضیلت ترین صدقہ ہوتا ہے اور یہ صدقہ باعث بنتا ہے کہ ساری قوتوں اور قدرتوں کا مالک خود اس کی دستگیری فرماتا ہے۔

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

۱۳۔ یأتی علی الناس زمان تکون العافیۃ فیہ عشرۃ اجزاء تسعۃ منھا فی اعتزال الناس وواحدۃ فی الصمت۔

ترجمہ: عافیت و سلامتی کے دس اجزاء ہیں،لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں عافیت و سلامتی کے نو (۹) اجزاء عام لوگوں سے دوری میں اور ایک جزء سکوت میں مل سکے گا۔

مختصر تشریح: معصوم امام علیہ السلام حجت خدا ہیں،آٹھویں معصوم امام عالم آل محمد علیہم السلام معروف ہیں۔ماضی،حال اور مستقبل  امام کے نزدیک یکساں ہیں،سب زمانے اُن کی نظر میں ہیں،مستقبل کے بارے میں برحق امام علیہ السلام رہنمائی فرما رہے ہیں کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے جب انسانی معاشرے میں گناہوں کی دعوتیں اس قدر عام ہو جائیں گی کہ سالم زندگی گذارنے کا تصور مشکل ہو جائے گا اور اس کی صورت یہ ہوسکے گی کہ عام لوگوں سے بچ بچا کر،خوفِ خُدا اور تقویٰ کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہو کر ،آخرت و عاقبت کی فکر کے ساتھ اور غیر متعلقہ امور سے چشم پوشی اور سکوت کے ساتھ اپنی گذر بسر کرے۔

۱۴۔لا یستکمل عبد حقیقۃ الایمان حتی تکون فیہ خصال ثلاث: التقیۃ فی الدین و حسن التقدیر فی المعیشۃ والصبر علی الرزایا۔

ترجمہ: جب تک تین خصوصیات ‘‘ دین میں بصیرت،اقتصادی لحاظ سے بہترین اہتمام اور مشاکل و مصائب پر صبر و تحمل’’ ایک بندے میں نہ ہوں وہ حقیقت ایمان کے کمال تک پہنچ سکتا۔

مختصر تشریح: جس طرح حقیقی انسان کہلانے کا وہی شخص حقدار ہے جس کے صدفِ وجود میں گوہر انسانیت موجود اور محفوظ ہو بالکل اسی طرح اس سے بلندتر مؤمن شخص وہ ہوگا جس میں ایمان کی حقیقت موجود اور محفوظ ہو۔ اس حدیث رضوی  کی روشنی میں تین اصول پائے جانے کی صورت میں یہ حقیقت پائی جاسکے گی یعنی مؤمن کے لیے ضروری ہے کہ دینی امور اور معارف میں بصیرت رکھتا ہو،معیشت اور اقتصاد میں بہترین تدبیر و تنظیم رکھتا ہو اور ہر آنے والے مشکل مرحلہ کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو صبر و تحمل کی سپر کے ساتھ تیار رکھے۔

۱۵۔احسنوا جوار النعم فانھا وحشیۃ

ترجمہ: خداوندمتعال کی عطا کردہ نعمتوں کے ساتھ حسن سلوک روا رکھو اور اچھا برتاؤ کرو کیونکہ نعمتیں ہاتھوں سے جلد جانے والی ہوتی ہیں۔

۱۶۔ان شر الناس من منع رفدہ واکل وحدہ و جلّد عبدہ

ترجمہ: لوگوں میں سب سے بدترین انسان وہ ہے جو مالی تعاون کرنے سے پہلوتہی کرے،اکیلے کھانا کھائے اور نوکر(غلام)کو تکلیف پہنچائے۔

۱۷۔ احسن الناس معاشا‘‘من حسّن معاش غیرہ فی معاشہ’’

ترجمہ: لوگوں میں سے بہترین زندگی گذارنے والا وہ شخص ہے جو اپنی زندگی اور گذر بسر میں کسی دوسرے(مؤمن بھائی)کی زندگی کو بھی اچھے انداز سے شریک رکھے۔

۱۸۔ اسوءالناس معاشا‘‘من لم یعش غیرہ فی معاشہ’’

ترجمہ: لوگوں میں سے بدترین زندگی گذارنے والا وہ شخص ہے جس کی گذربسر کے زیر سایہ کسی اور کی زندگی نہ گذرے۔

۱۹۔ لیس لبخیل راحۃ ولا لحسودٍلذۃ ولا للملوک وفاء ولا للکذوب مروءۃ

ترجمہ: بخیل شخص کیلیے آسودگی و آرام نہیں ہے، زیادہ حسد کرنے والے شخص کیلئے لذت نہیں ہے،بادشاہ کے لیے وفا نہیں ہے اور جھوٹے شخص کیلیے مروّت نہیں ہے۔

۲۰۔ العقل حباء من اللہ والادب کلفۃ فمن تکلّف الادب قدر علیہ ومن تکلّف العقل لم یزدد بذلک الا جھلاً(۱)

ترجمہ: عقل خداداد چیز ہے اور ادب مشقت و محنت سے حاصل ہونے والی چیز ہے پس جو شخص مشکلات برداشت کرتے ہوئے ادب کے حصول کے لیےکوشش کرتا ہے اُسے پالیتا ہے لیکن جو شخص عقل حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو محنت و مشقت میں ڈالتا ہے اس کے فقط جہل و نادانی میں ہی اضافہ ہوتا ہے(کیونکہ عقل تو محنت سے حاصل ہونے والی چیز نہیں بلکہ خداداد نعمت ہے)۔

۲۱۔ یا موسی بن سیار!أما علمت أنا معاشر الآئمۃ تعرض علینا أعمال شیعتنا صباحاً و مساءً؛فما کان من التقصیر فی اعمالھم سئلنا اللہ تعالیٰ الصفح لصاحبہ وما کان من العلوّ سئلنا اللہ الشکر لصاحبہ (۲)

ترجمہ: اے موسیٰ ابن سیار! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ہمارے شیعوں کے اعمال ہم آئمہ کے سامنے ہر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں پس اگر کسی (شیعہ)کے اعمال میں  کچھ کمی ہوتی ہے تو ہم خداوندمتعال سے ان اعمال کے صاحب کی معافی و بخشش کا سوال کرتے ہیں اور اگر اچھے قابلِ قبول اعمال ہوں تو خداوند سے اس صاحب اعمال کیلیے شکر(قبولیت)کا سوال کرتے ہیں۔

۲۲۔ ایھا الناس اتقوا اللہ فی نعم اللہ علیکم فلا تنفروھا عنکم بمعاصیہ بل استدیموھا بطاعتہ و شکرہ علی نعمہ و أیادیہ۔(۳)

ترجمہ: اے لوگو!خداوند متعال نے جو نعمتیں تمہیں عطا فرمائی ہیں ان کے بارے میں تقوائے الہٰی اختیار کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ خداوند کی معصیت و نافرمانی میں پڑکر اس کی نعمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھو بلکہ خداوند کی اطاعت اور اس کی ظاہری و باطنی نعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کی نعمتوں کو اپنے لیے برقرار و پائیدار رکھو۔

۲۳۔ من جلس مجلسا یحییٰ فیہ امورنا لم یمت قلبہ یوم تموت(فیہ)القلوب۔(۴)

ترجمہ: جو شخص ایسی محفل و مجلس میں بیٹھےجس میں ہمارے معارف بیان کیے جائیں  تو بروز قیامت جب دوسروں کے دل موت کا شکار رہے ہوں گے،اُس کا  دل نہیں مرے گا(بلکہ زندہ و سلامت رہے گا)۔

۲۴۔ لیس منا من لم یحاسب نفسہ فی کل یوم فان عمل حسناً استزاداللہ منہ،وان عمل سیئا استغفراللہ منہ و تاب الیہ۔(۵)

ترجمہ: جو شخص ہر روز اپنے نفس کا محاسبہ و حساب نہیں کرتا وہ ہم سے نہیں ہے کہ اگر نیک اعمال بجا لایا ہو تو خداوند متعال سے مزید ایسی توفیق مانگے اور اگر برے اعمال کا مرتکب ہوا ہو تو خداوندمتعال سے اس سلسلے میں معافی و بخشش مانگے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرے۔

۲۵۔ السخی یأکل طعام الناس لیأکلوا من طعامہ۔(۶)

ترجمہ: سخی شخص دوسرے لوگوں کی خور دو نوش کی چیزوں میں سے کھاتا ہے تاکہ وہ لوگ بھی اُس کے کھانے  میں سےکھائیں۔

۲۶۔ البخیل لا یأکل طعام الناس لکیلا یأکلوا من طعامہ۔(۷)

ترجمہ: بخیل شخص دوسرے لوگوں کا کھانا نہیں کھاتا تاکہ دوسرے لوگ بھی اُس کا کھانا نہیں کھائیں۔

۲۷۔ من لقی فقیراً فسلّم خلاف سلامہ علی الغنی لقی اللہ یوم القیامۃ و ھو علیہ غضبان۔(۸)

ترجمہ: جو شخص ایک غریب و نادار شخص سے ملے اور اسے سلام کرے لیکن اس طرح سے سلام نہ کرے جیسا کہ امیر اور ثروتمند کو کرتا ہے پس ایسا شخص قیامت میں جب خداوندمتعال کے ہاں حاضر ہوگا تو خداوند اس پر غضبناک ہوگا۔

۲۸۔ انا اھل بیت نری ما وعدنا علینا دَینا کما صنع رسول اللہ (۹)

ترجمہ: ہم اہلبیت کسی کے ساتھ جو وعدہ کرتے ہیں تو اُسے اپنے اوپر قرض سمجھتے ہیں جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت بھی یہی تھی۔

۲۹۔ المستتر بالحسنۃ یعدل سبعین حسنۃ والمذیع بالسسیئۃ مخذول والمستتر بالسیئۃ مغفور لہ۔(۱۰)

ترجمہ: جو شخص نیک کام غیر علنی طور پر انجام دے اس کا ثواب ستر نیکیوں کے برابر ہے لیکن کھلے عام برائی کرنے والا شخص رسوا ہوتا ہے جبکہ چھپ کر برا کام کرنے والا شخص قابل بخشش ہے۔

۳۰۔العضب مفتاح کل شر۔(۱۱)

ترجمہ:غضبناک ہونا ہر شر(ہر برائی)کا نقطۂ آغاز ہے۔

۳۱۔من حمد اللہ علی النعمۃ فقد شکرہ وکان الحمد افضل من تلک النعمۃ۔(۱۲)

ترجمہ:جو شخص خداوندمتعال کی نعمت پر اس کی حمد و ثنا بجا لائے گویا وہ شکر خدا بجالایا اور اس کا حمد و ثنا کرنا خود اس نعمت سے کہیں بڑھ کر فضیلت رکھتا ہے۔

۳۲۔سئل علیہ السلام عن حد التوکل فقال علیہ السلام:ان لا تخاف احداً الا اللہ۔(۱۳)

ترجمہ:حضرت امام رضا علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ توکل کی حد کیا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:یہ کہ خداوندمتعال کے علاوہ کسی سے بھی مت ڈرو(اور فقط اسی پر مکمل اعتماد اور بھروسہ رکھو)۔

۳۳۔من السنۃ اطعام الطعام عند التزویج۔(۱۴)

شادی کے موقع پر کھانا کھلانا سنت ہے۔

۳۴۔سئل ابن سکیت:ما الحجۃ علی الخلق الیوم؟فقال علیہ السلام:العقل یعرف بہ الصادق علی اللہ فیصدقہ والکاذب علی اللہ فیکذبہ۔(۱۵)

ترجمہ:ابن سکیت نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے سوال کیا:موجودہ زمانے میں مخلوق پر خداوندمتعال کی حجت کیا ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا:عصر حاضر میں بھی مخلوق پر خالق کی حجت ‘‘عقل’’ہے کیونکہ عقل کے ذریعے خداوندمتعال کے بارے میں سچ بولنے والے کو پہچانا جاسکتا ہے اور اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے اور اسی طرح جھوٹ بولنے والے کی شناخت کی جاسکتی ہے اور اسے جھٹلایا جاسکتا ہے۔

۳۵۔ العامل علی غیر بصیرۃ کالسائر علی غیر الطریق لا یزیدہ سرعۃ السیر الا بعداً عن الطریق۔(۱۶)

ترجمہ: وہ شخص جو بغیر بصیرت کے کوئی کام انجام دے اس کی مثل ہے جو سید ھے راستے سے ہٹ کر چلتا ہو کہ ایسے شخص کی تیز رفتاری اس کو صحیح راستے(اور نتیجے میں منزل مقصود)سے بہت دور کردینے کا باعث ہوتی ہے۔

۳۶۔ العلم خزائن و مفاتیحہ السؤال فاسئلوا یرحمکم اللہ فانہ یؤجر فیہ اربعۃ: السائل والمعلم والمستمع والمجیب لہ۔(۱۷)

ترجمہ:علم خزانوں کا نام ہے جو سوال کرنے سے کھلتے ہیں پس خداوندمتعال آپ پر رحم فرمائے سوال کیا کرو کیونکہ اس کام سے چار افراد ‘‘سوال کرنے والے،تعلیم دینے والے،سننے والے اور جواب دینے والے’’کو اجر و ثواب دیا جاتا ہے۔

۳۷۔ عن علی ابن موسی الرضا علیہما السلام عن آبائہ علیہم السلام عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن جبرئیل عن میکائیل عن اسرافیل عن اللوح عن القلم قال:یقول اللہ عزوجل ولایۃ علی ابن ابی طالب حصنی فمن دخل حصنی أمن من عذابی۔(۱۸)

ترجمہ: سنہرے سلسلے سے حضرت امام رضا علیہ السلام حدیث قدسی بیان فرماتے ہیں:‘‘علی ابن ابیطالب کی ولایت میرا قلعہ ہے پس جو بھی میرے قلعے میں داخل ہو جائے میرے عذاب سے امن میں آجاتا ہے’’

۳۸۔ عن سعد بن سعد سئلت ابا الحسن الرضا علیہ السلام عن زیارۃ فاطمۃ بنت موسی بن جعفر علیہ السلام فقال: من زارھا فلہ الجنۃ۔(۱۹)

ترجمہ: راوی نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے حضرت فاطمہ معصومہ بنت امام موسی کاظم علیہما السلام کی زیارت کے بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا:‘‘جو شخص بھی اس بی بی (معصومۂ قم سلام اللہ علیہا)کی زیارت کرے گا وہ جنت کا حقدار ہوگا’’۔

۳۹۔ من اسحاق بن راھویہ عن الرضا علیہ السلام عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال:سمعت اللہ عزوجل یقول:لا الہ الا اللہ حصنی فمن دخل حصنی امن من عذابی۔فلمّا مرت الراحلۃ نادانا:‘‘بشروطھا وانا من شروطھا’’(۲۰)

ترجمہ: یہ حدیث  ‘‘حدیث سلسلۃ الذھب’’ کہلاتی ہے جس کی بے شمار برکات ہیں معصوم واسطوں سے آٹھویں معصوم امام علیہ السلام نے اپنے جد بزرگوار حبیب خدا حضرت احمد مختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرمایا کہ حضور فرماتے ہیں: میں نے سنا کہ خداوندمتعال نے فرمایا:‘‘لا الہ الا اللہ  میرا قلعہ ہے پس جو بھی میرے قلعے میں داخل ہو جائے وہ میرے عذاب سے امن و امان میں آجاتا ہے’’امام رضا علیہ السلام کی سواری آگے بڑھی تو امام علیہ السلام نے پکار کر فرمایا‘‘یہ امن و امان کی ضمانت شرائط کے ساتھ ہے اور میں ان شرائط میں سے ہوں’’

(یہ حدیث مدینہ سے خراسان سفر کے دوران نیشاپور میں مولا نے بیان فرمائی جسے انبیاء کی تعداد میں راویوں نے سنا،لکھا اور آنے والی نسلوں کی نجات و سعادت کے لیے تاریخ کی پیشانی پر ثبت و ضبط کر دیا اس حدیث شریف سے معلوم ہو رہا ہے کہ خالص اور حقیقی توحید فقط بر حق امامت کے راستے سے  نصیب ہوسکتی ہے)۔

۴۰۔عن حمدان الدیوانی قال قال الرضا علیہ السلام ،من زارنی علی بعد داری أتیتہ یوم القیامۃ فی ثلاثۃ مواطن حتی أُخلّصہ من أھوالھا  اذا تطایرت الکتب یمیناً و شمالاً  و عند الصّراط  وعند المیزان۔(۲۱)

ترجمہ: حمد ان دیوانی سے روایت ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص بھی وطن سے بہت دور(خراسان میں) میری زیارت کرے تو بروز قیامت تین مقامات پر میں اس کی امدادکو پہنچوں گا اور اسے وہاں کی ہولناکیوں سے نجات دلاؤں گا۔

۱۔جب نامۂ اعمال دائیں اور بائیں ہاتھوں میں دیے جا رہے ہوں گے،

۲۔پل صراط سے عبور کرنے کے وقت اور

 ۳۔جب اعمال میزان(ترازو)میں رکھے جائیں گے۔

والحمد للہ کما ھو اھلہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

حوالہ جات

۱۔مذکورہ بیس احادیث رضویہ کتاب مستطاب تحف العقول ص۸۰۲ سے ۸۱۴ تک سے انتخاب کی گئی ہیں۔

۲۔ بحار الانوار ج۴۹(عربی)ص۹۹

۳۔ ایضاً ص۱۸۲

۴۔ مشکاۃ الانوار فی غرر الاخبار ص ۲۶۱

۵۔ ایضاً ص ۲۵۲

۶۔ ایضاً ص ۲۳۴

۷۔ ایضاً

۸۔ ایضاً ص ۹۱

۹۔ ایضاً ص ۱۷۴

۱۰۔ ایضاً ص ۱۶۰

۱۱۔ ایضاً ص ۲۲۰

۱۲۔ ایضاً ص ۳۸

۱۳۔ تحف العقول ص ۸۰۶

۱۴۔ ایضاً

۱۵۔ الکافی ج ۱ ص ۲۵

۱۶۔ امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام منادی توحید و امامت ص ۱۵۲

۱۷۔ ایضاً ص ۱۵۴

۱۸۔ عیون اخبار الرضا علیہ السلام ج ۲ باب ۳۸ ص ۴۶۵

۱۹۔ ایضاً باب ۶۷ ص ۶۲۹

۲۰۔ امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام منادی توحید و امامت ص ۷۳

۲۱۔ عیون اخبار الرضا علیہ السلام ج ۲ص ۶۱۶

 

 منابع و مآخذ

۱۔ تحف العقول

۲۔ بحار الانوار ج ۴۹

۳۔ مشکاۃ الانوار فی غرر الاخبار

۴۔ الکافی ج ۱

۵۔ امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام منادی توحید و امامت

۶۔عیون اخبار الرضا علیہ السلام

 

 

ملتے جلتے موضوعات: اردو  مقالات
تاریخ : Wed 12 Oct 2011
ٹائیم : 6:1 PM

.:: This Template By : Muhammad Hassan Lashari ::.

مین پیج
مین پیج
ایمیل
تمام مطالب
بلاگ کے مطالب
لینک RSS
موبائل کے لئے
ہمارے بارے میں
اڈمین بلاگ
محمد حسن لاشاری ۔
ہم سے رابطہ:
مشھد مقدس ایران
موبائل/واٹسپ نمبر:
00989382237825
www.facebook.com/Hassan.iran
فیس بوک
Hassan.iran@facebook.com
مدیر سائٹ کا تعارف
آخری پوسٹ
Mon 2 Dec 2024" >رسول اکرم ﷺ اور حضرت فاطمہ زہرا (س) کی آخری گفتگو
Mon 2 Dec 2024" >میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ کیوں رکھا ؟
Tue 21 Mar 2023" >ولایت اور ولی فقیہ
Tue 7 Jun 2022" >ولایت فقیہ کی ضرورت
Tue 7 Jun 2022" >اور تم کیا جانو ولایتِ فقیہ کیا ہے؟
Thu 2 Sep 2021" >حاج قاسم ولایت فقیہ کے سپاہی تھے،
Mon 23 Aug 2021" >محرم الحرام کی مناسبتیں
Mon 26 Jul 2021" >آڈیو کتاب اردو زبان میں/واقعہ غدیر قدم بہ قدم
Mon 26 Jul 2021" >عید غدیر خم مبارک ہو
Thu 20 May 2021" >حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای نے فرمایا کہ
Mon 17 May 2021" >یوم قدس دنیا کے تمام مسلمانوں کے متعلق ہے
Mon 17 May 2021" >آيت اللہ العظمی امام خامنہ ای  کا خطاب (اردو ترجمہ)
Mon 17 May 2021" >رهبرکبیر انقلاب اسلامی حضرت امام (رح)
Sat 13 Feb 2021" >امام محمد باقر علیہ السلام کی مختصر سوانح حیات
Sat 13 Feb 2021" >امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں